MOJ E SUKHAN

جلوہ فرما دیر تک دل بر رہا

جلوہ فرما دیر تک دل بر رہا
اپنی کہہ لی سب نے میں ششدر رہا

جسم بے حس بے شکن بستر رہا
میں نئے انداز سے مضطر رہا

میں خراب بادہ و ساغر رہا
دل فدائے ساقیٔ کوثر رہا

میں رہا تو باغ ہستی میں مگر
بے نوا بے آشیاں بے پر رہا

سب چمن والوں نے تو لوٹی بہار
اور مجھے صیاد ہی کا ڈر رہا

کوئی سمجھا رند کوئی متقی
لب پہ توبہ ہاتھ میں ساغر رہا

تھم رہے آنسو رہی دل میں جلن
نم رہیں آنکھیں کلیجہ تر رہا

عمر بھر پھرتا رہا میں در بدر
مر کے بھی چرچا مرا گھر گھر رہا

سیکڑوں فکریں ہیں تم کو عاقلو
تم سے تو مجذوبؔ ہی بہتر رہا

خواجہ عزیز الحسن مجذوب

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم