MOJ E SUKHAN

جلوے تو نظر میں سماجائیں جلوؤں میں سمانا مشکل ہے

جلوے تو نظر میں سماجائیں جلوؤں میں سمانا مشکل ہے
طوفان تجلی میں کھو کر پھر آپ کو پانا مشکل ہے

تفسیر بقا کا یہ مضموں ہے راز کتاب کن فیکوں
ہستی کا صفحۂ ہستی سے ہر نقش مٹانا مشکل ہے

وہ جس کے حسین تبسم سے غنچوں میں تبسم پیدا ہو
اس برق نظر کا گلشن پر کیا برق گرانا مشکل ہے

وہ طور کا جلوہ تھا جس سے بے ہوش ہوئے پھر ہوش آیا
اب سامنا ہے مست آنکھوں کا اب ہوش میں آنا مشکل ہے

سب دنیا کے مردوں کو زندہ کردیں گے مسیحا ممکن ہے
جو تیری نظر کا مارا ہے ہاں اس کو جلانا مشکل ہے

ہے حشر خرامی کا صدقہ ہنگامۂ محشر گرم ہوا
ہاتھوں سے ستم کے ماروں کے دامن کا چھڑا نا مشکل ہے

سر دینا ہر اک کا کام نہیں یہ ذوق شہادت عام نہیں
شمشیر کے آگے اے قاتلؔ گردن کا جھکانا مشکل ہے

قاتل اجمیری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم