MOJ E SUKHAN

جنوں کا راز محبت کا بھید پا نہ سکی

جنوں کا راز محبت کا بھید پا نہ سکی
ہمارا ساتھ یہ دنیا مگر نبھا نہ سکی

بکھر گیا ہوں فضاؤں میں بوئے گل کی طرح
مرے وجود میں وسعت مری سما نہ سکی

ہر اک قدم پہ صلیب آشنا ملے مجھ کو
یہ کائنات وفاؤں کا بار اٹھا نہ سکی

پٹک کے رہ گئی سر اپنا رہ گزاروں سے
مری صدا دل کہسار میں سما نہ سکی

کھلی ہوا کی فصیلوں میں زندگی ہے اسیر
فریب رنگ سے ماحول کو بسا نہ سکی

رضا طلوع سحر تک ہے زندگی شب کی
یہ بات اہل ستم کی سمجھ میں آ نہ سکی

رضا ہمدانی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم