MOJ E SUKHAN

جنوں ہے ذہن میں تو حوصلے تلاش کرو

غزل

جنوں ہے ذہن میں تو حوصلے تلاش کرو
مثال آب رواں راستے تلاش کرو

یہ اضطراب رگوں میں بہت ضروری ہے
اٹھو سفر کے نئے سلسلے تلاش کرو

یہ سر زمین سفر کے لئے بہت کم ہے
چلو افق پہ نئے مرحلے تلاش کرو

جو تھک گئے ہو یہ بوسیدہ زندگی جی کر
تو زندگی کے الگ زاویے تلاش کرو

جو چاہتے ہو کہ اخبار چل پڑے اپنا
تو سرخیوں کے لئے حادثے تلاش کرو

یہ تنگ ذوق ادیبوں سے خوش نہیں ہوں گے
مشاعرے کے لئے مسخرے تلاش کرو

خدا پہ چھوڑ دو یہ کل کوئی پڑھے نہ پڑھے
نئی غزل کے لئے قافیے تلاش کرو

نفس انبالوی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم