MOJ E SUKHAN

جن کی نظروں کے آپ گھائل ہیں

جن کی نظروں کے آپ گھائل ہیں
اُن کے اپنے بھی کچھ مسائل ہیں

صنفِ نازک ہم ابنِ آدم ہیں
ہم ازَل سے تمہارے قائل ہیں

اک زمانہ ہی درمیان نہیں
مشکلیں اور کچھ بھی حائل ہیں

یونہی اِک لمحہ رک گئے تھے یہاں
ہم کسی اور در کے سائل ہیں

ہاں وہ اک اور شخص ہے یارو
جس پہ ہم جان و دل سے مائل ہیں

خامشی اختیار کر خالدؔ
اُس کے پاس اَب بڑے وسائل ہیں

خالد شریف

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم