MOJ E SUKHAN

جو ان پر ہو تصدق زندگی بھی

جو ان پر ہو تصدق زندگی بھی
ابھی کھل جائے یہ دل کی کلی بھی

رسولِ پاک کی عظمت کے آگے
پشیماں ہے غرورِ آگہی بھی

محمد غم کے ماروں کا سہارا
وہیں تک ہے ہماری بندگی بھی

تمہیں تو وجہ تخلیقِ جہاں ہو
تمہیں ہو دو جہاں کی روشنی بھی

ہر آہ سرد میں مضمر ہے ساقیؔ
ثبوت انتہائے عاشقی بھی

ساقی کاکوری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم