MOJ E SUKHAN
No Record Found
جو بھی من جملۂ اشجار نہیں ہو سکتاکچھ بھی ہو جائے مرا یار نہیں ہو سکتا
اک محبت تو کئی بار بھی ہو سکتی ہےایک ہی شخص کئی بار نہیں ہو سکتا
جس سے پوچھیں ترے بارے میں یہی کہتا ہےخوب صورت ہے وفادار نہیں ہو سکتا
Add languages
کونین پر محیط ولائے حسین ہے
مِلیں پھر آکے اِسی موڑ پر، دُعا کرنا
کتنے سر تھے جو پروئے گئے تلواروں میں
نقش کی طرح ابھرنا بھی تمہی سے سیکھا
تسبیح و سجدہ گاہ بھی سجدہ بھی مست مست
ماں
اٹھے نہ گر ہم ابھی تلک تو خدا نے پوچھا تو کیا
ملال چھوڑ دوں ذکر ملال بھی نہ کروں
مست آنکھوں کی قسم کھانے کا موسم آ گیا
آتش دلِ زار میں لگائی اس نے رباعی
تھا ہم سے بھی ربط یا کہ نہ تھا
جب سے وہ گئے ادھرنہیں یاد کیا رباعی
یہ حکم خدا کا کہ قطرہ مے کا نہ پیوں – Ye
مومن لازم ہے وضع مرغوب بنے
رباعیات حکیم عمر خیام نیشا پوری
کیا تیری جدائی میں ستم دیکھتے ہیں رباعی امیر مینائی
غائب بہت اے جان جہاں رہتے ہو رباعی امیر مینائی
باغوں میں جو قمریاں ہیں سب مٹی ہیں رباعی قلندر
سب ستارے لٹا دیۓ میں نے
ہوا کے واسطے اک کام چھوڑ آیا ہوں
ہوائے تیز ترا ایک کام آخری ہے
اک چراغِ آرزو پھر سے جلانا ہے مجھے
عشق جب تک جان و دل کا رہنما ہوتا نہیں
رازداں ہم نے بنایا آپ کو
جرم الفت کی سزا دینے لگے
از رہِ التفات بنتی ہے
میں نے تو درد کو سینے میں چھپا رکھا ہے
سنو اے باوفا لڑکے
تمہاری خاطر نقاب اوڑھوں نہ گھر سے نکلوں
تیرے جانے سے کچھ نہیں بدلا
ہو نے سر جو بدلا ہے
ادھر ادھر کی نہ تم سنانا بچھڑنے والے بتا کے جانا
آجکل دل کا عجب حال ہوا ہے جاناں
جا ترے بس میں نہیں یار محبت کرنا
نظم ہونے لگی
سنو میں مان لوں کیسے تمہیں مجھ سے محبت ہے