MOJ E SUKHAN

جو بھی من جملۂ اشجار نہیں ہو سکتا

جو بھی من جملۂ اشجار نہیں ہو سکتا
کچھ بھی ہو جائے مرا یار نہیں ہو سکتا

اک محبت تو کئی بار بھی ہو سکتی ہے
ایک ہی شخص کئی بار نہیں ہو سکتا

جس سے پوچھیں ترے بارے میں یہی کہتا ہے
خوب صورت ہے وفادار نہیں ہو سکتا

عباس تابش

Add languages

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم