MOJ E SUKHAN

جو تیری آنکھ انکاری ہوئی ہے

جو تیری آنکھ انکاری ہوئی ہے
مجھے کچھ اور بھی پیاری ہوئی ہے

سنا جو ذکر اغیاروں سے تیرا
عجب سی کیفیت طاری ہوئی ہے

تمھارے ساتھ گزری ایک ساعت
ہماری عمر پہ بھاری ہوئی ہے

ندی کا ذائقہ بدلا ہوا ہے
ہمارے اشک سے کھاری ہوئی  ہے

تمھاری یاد مرہم بن کے اتری
ہماری سانس جب آری ہوئی ہے

محبت ایک طرفہ بھی غنیمت
روایت یہ نئی جاری ہوئی ہے

خوشی کا بوجھ ہلکا ہے بہت ہی
غموں کی پوٹلی بھاری ہوئی ہے

جو جملوں سے لگائی ہے کسی نے
وہی اک ضرب تو کاری ہوئی ہے

میں روکے سے نہ رک پاوں گی رضیہ
کہ اب چلنے کی تیاری ہوئی ہے

پروفیسر رضیہ سبحان

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم