MOJ E SUKHAN

جو خواب دیکھا تھا وہ خواب ہی سہانا تھا

جو خواب دیکھا تھا وہ خواب ہی سہانا تھا
وگرنہ باتوں میں تیری کہاں سے آنا تھا

بس ایک حادثہ لے کر چلا گیا اس کو
وگرنہ اس سے تعلق بہت پرانا تھا

تمام عمر بسر کی بس ایک وعدے پر
کچھ اس طرح بھی ترا ظرف آزمانا تھا

لکھا نصیب کا کوئی مٹا سکا ہے کہاں
بچھڑنا اس کا بھی گویا کے اک بہانہ تھا

یہ کون کہتا ہے کے عارضی محبت تھی
تمہیں تو ساتھ مرا عمر بھر نبھانا تھا

میں اس لیے بھی رہا ہجر میں سسکتا ہوا
مجھے تو ہجر کو سہہ کر اسے دکھانا تھا

شبِ فراق میں اقبال کرب تھا اتنا
دلِ حزیں کو کہاں اس کے بن ٹھکانا تھا

ڈاکٹر سید محمد اقبال شاہ

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم