MOJ E SUKHAN

جو خواب میرے نہیں تھے میں ان کو دیکھتا تھا

غزل

جو خواب میرے نہیں تھے میں ان کو دیکھتا تھا
اسی لیے آنکھ کھل گئی تھی اسی لیے دل دکھا ہوا تھا

اداسیوں سے بھری ہوئی التجا سنی تھی
کسی نگر میں کوئی کسی کو پکارتا تھا

وہ اک صدا تھی کہ ہفت عالم میں گونجتی تھی
نہ جانے کیسے کوئی کسی سے بچھڑ گیا تھا

عجیب حیرت بکھیرتے تھے وہ داستاں گو
کہ شب نے جانے سے صاف انکار کر دیا تھا

گزشتگاں کو بھی یہ گلہ تھا سنا ہے میں نے
سنا ہے ان کو بھی اسم اعظم نہیں ملا تھا

فضا سنہری تھی رنگ پھیلا تھا چار جانب
کہ چاند سے وہ زمیں پہ جیسے اتر رہا تھا

سفر کے آخر پہ شمعیں روشن سی ہو گئی تھیں
کوئی مسرت کی سب حدوں سے گزر گیا تھا

صابر وسیم

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم