MOJ E SUKHAN

جو روز کی ہے بات وہی بات کرو ہو

جو روز کی ہے بات وہی بات کرو ہو
بے کار ہی یارو غم حالات کرو ہو

اک مجھ سے ہی ملنے کو تمہیں وقت نہیں ہے
اوروں پہ تو اکثر ہی عنایات کرو ہو

یہ طرز تکلم تمہیں آیا ہے کہاں سے
ہونٹوں سے جو یہ پھولوں کی برسات کرو ہو

کیوں چاند سے چہرے پہ گرا رکھی ہیں زلفیں
کیوں دن کو اماوس کی سیہ رات کرو ہو

بے وہم و گماں راہ میں مل جاتے ہو اکثر
دانستہ کہاں مجھ سے ملاقات کرو ہو

جاوید نسیمی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم