MOJ E SUKHAN

جو سوچتا ہے تو ویسا ہی حال تھوڑی ہے

غزل

جو سوچتا ہے تو ویسا ہی حال تھوڑی ہے
سمجھنا جھوٹ کو بھی سچ کمال تھوڑی ہے

ہے کچھ ہی لمحے کو یہ ظلمتوں کا ڈیرا بھی
کہ زیست تیرگی بھی ماہ و سال تھوڑی ہے

بہت غرور ہے کیوں تجھ کو تیری شہرت پر
کہ شہرتوں کی فقط تو مثال تھوڑی ہے

ہیں مشکلوں سے بھری راہیں اور تنہا سفر
ابھی پڑاؤ ہے منزل مآل تھوڑی ہے

سفر میں کومہ کو منزل سمجھنے والے سن
مرا عروج ابھی ہے زوال تھوڑی ہے

تو اتنی حسرتوں سے مجھ کو پڑھ رہا ہے کیوں
غزل میں میرا ہے تیرا خیال تھوڑی ہے

ان آنسوؤں کو شغفؔ صبر کیسے آئے گا
یہ شام ہجر ہے صبح وصال تھوڑی ہے

پروین شغف

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم