MOJ E SUKHAN

جو عام سا اک سوال پوچھا تو کیا کہیں گے

جو عام سا اک سوال پوچھا تو کیا کہیں گے
کسی نے ہم سے بھی حال پوچھا تو کیا کہیں گے

جو سر کے بل خاک میں گڑے ہیں کسی نے ان سے
بلندیوں کا مآل پوچھا تو کیا کہیں گے

زمانے بھر کو تو ہم نے خاموش کر دیا ہے
جو دل نے بھی اک سوال پوچھا تو کیا کہیں گے

جنہیں ہمارے لہو کی لت ہے کسی نے ان سے
خمار رزق حلال پوچھا تو کیا کہیں گے

جسے غزل میں برت کے ہم داد پا چکے ہیں
کسی نے اس دکھ کا حال پوچھا تو کیا کہیں گے

اگر ہم اس کی خوشی میں خوش ہیں تو دوستوں نے
جواز حزن و ملال پوچھا تو کیا کہیں گے

یہ ہم جو اوروں کے دکھ کا ٹھیکا لیے ہوئے ہیں
کسی نے اس کا مآل پوچھا تو کیا کہیں گے

جو اپنی جانیں بچا کے خوش ہیں کبیرؔ ان سے
کسی نے بستی کا حال پوچھا تو کیا کہیں گے

کبیر اطہر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم