MOJ E SUKHAN

جو ممکن ہو تو سوز شمع پروانے میں رکھ دینا

غزل

جو ممکن ہو تو سوز شمع پروانے میں رکھ دینا
اب اس افسانے کا عنوان افسانے میں رکھ دینا

بڑی کافر کشش ایماں میں ہے اے عازم کعبہ
نہ لے جانا دل اپنے ساتھ بت خانے میں رکھ دینا

مرا دل بھی شراب عشق سے لبریز ہے ساقی
یہ بوتل بھی اڑا کر کاگ میخانے میں رکھ دینا

ابھی آئینۂ تصویر ابھی ہشیار ابھی غافل
تمہیں آتا ہے ہر انداز دیوانے میں رکھ دینا

مرا پیمانۂ ہستی اگر ساقی چھلک جائے
مرے حصے کا خالی جام میخانے میں رکھ دینا

شریک مے جناب شیخ بھی ہو جائیں گے ساقی
ذرا ظرف وضو کا ڈھنگ پیمانے میں رکھ دینا

یہ کیا دست اجل کو کام سونپا ہے مشیت نے
چمن سے توڑنا پھول اور ویرانے میں رکھ دینا

وفور یاس میں قیصرؔ چلے ہیں دل سے چند آنسو
یہ لاشیں ہیں انہیں آنکھوں کے خس خانے میں رکھ دینا

قیصر حیدری دہلوی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم