MOJ E SUKHAN

جو میری غزلوں کی تنزیل کا معاملہ ہے

غزل

جو میری غزلوں کی تنزیل کا معاملہ ہے
وہ میرا اور مرے جبریل کا معاملہ ہے

بنا رہا ہوں میں کاغذ پہ لفظ لفظ کھنڈر
دل تباہ کی تمثیل کا معاملہ ہے

میں کیا بتاؤں مرے اشک چھپ رہے ہیں کہاں
یہ میری آنکھ کی زنبیل کا معاملہ ہے

چراغ طور ترا تذکرہ عبث ہے یہاں
یہاں تو غار کی قندیل کا معاملہ ہے

ادھر بھی پیشوا تعداد میں زیادہ ہیں
ادھر بھی چار اناجیل کا معاملہ ہے

ہر اک بدن کی اکائی ہے دو میں پوشیدہ
یہ کائنات کی تکمیل کا معاملہ ہے

یہ ہم جو ہو کے مکمل بھی نامکمل ہیں
خدا کے حکم کی تعمیل کا معاملہ ہے

ملا ہے آدم و حوا کو نصف نصف وجود
یہ سارے دہر کی تشکیل کا معاملہ ہے

اس آدھے پن کی ضروری ہے پوری پوری سمجھ
جو پورے پن کی تفاصیل کا معاملہ ہے

یہ خد و خال کے اعراب سر سے پاؤں تلک
بدن صحیفوں کی ترتیل کا معاملہ ہے

بسر رہا ہے غزل تیس سال سے واصفؔ
یہ مت سمجھ کہ یہ تعجیل کا معاملہ ہے

جبار واصف

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم