MOJ E SUKHAN

جو میرے بس میں ہے اس سے زیادہ کیا کرنا

غزل

جو میرے بس میں ہے اس سے زیادہ کیا کرنا
سفر تو کرنا ہے اس کا ارادہ کیا کرنا

بس ایک رنگ ہے دل میں کسی کے ہونے سے
اب اپنے آپ کو اس سے بھی سادہ کیا کرنا

جب اپنی آگ ہی کافی ہے میرے جینے کو
تو مہر و ماہ سے بھی استفادہ کیا کرنا

ترے لبوں کے سوا کچھ نہیں میسر جب
سو فکر ساغر و ساقی و بادہ کیا کرنا

تمام کشتیاں ساحل پہ ہیں ابھی ٹھہری
ابھی سے ان کو جلانے کا وعدہ کیا کرنا

ذیشان ساحل

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم