MOJ E SUKHAN

جو ڈر اپنوں سے ہے غیروں سے وہ ڈر ہو نہیں سکتا

جو ڈر اپنوں سے ہے غیروں سے وہ ڈر ہو نہیں سکتا
یہ وہ خنجر ہے جو سینے سے باہر ہو نہیں سکتا

جو سچ پوچھو تو یہ تصویر بھی ہے سانحہ جیسی
کسی بھی سانحے پر کوئی ششدر ہو نہیں سکتا

کھٹکتی ہے کسی شے کی کمی اس دار فانی میں
شکستہ بام و در جس کے نہ ہوں گھر ہو نہیں سکتا

یہ آخر کیوں کہ ہر دن ایک موسم ایک ہی منظر
جہاں زیر و زبر ہو اس سے بہتر ہو نہیں سکتا

نہ شامل ہو جو آشفتہ خیالی ذہن محکم میں
وہ کچھ بھی ہو چمن‌ زار معطر ہو نہیں سکتا

کلی کا لب بدن کندن کا قامت سرو کی لیکن
وفا نا آشنا میرے برابر ہو نہیں سکتا

فقط صورت میں کیا رکھا ہے اے حسن تماشا ہیں
کہ کار آئنہ سے میں سکندر ہو نہیں سکتا

کسی کو چاہنے سے باز آنا کیسے ممکن ہے
لکھا ہے جو کتابوں میں وہ اکثر ہو نہیں سکتا

ترے انکار کو اس زاویے سے دیکھتا ہوں میں
ترا ملنا بھی معیار مقدر ہو نہیں سکتا

یہ مانا عیب بھی ہیں سیکڑوں کس میں نہیں ہوتے
امین اشرفؔ مگر تجھ سا قلندر ہو نہیں سکتا

سید امین اشرف

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم