MOJ E SUKHAN

جو کچھ کیا سو ہم نے کیا اپنی چاہ سے

غزل

جو کچھ کیا سو ہم نے کیا اپنی چاہ سے
اب شکوہ کیجیے نہ کچھ اس رشک ماہ سے

عاشق کے روزگار کو اس نے سیہ کیا
کاکل سے خط سے زلف سے خالی سیاہ سے

تاب و توان و دین و دل و عقل و صبر و ہوش
وہ شوخ مجھ سے لے گیا سب اک نگاہ سے

کی چرخ کج روش نے یہ کیا کج ادائی خرچ
جو ہم کو آشنا کیا اس کج کلاہ سے

کثرت نجوم کی نہ فلک پر یہ سمجھیو
غربال ہو گیا ہے مرے تیر آہ سے

اس شوخ خود پسند سے پوچھے کوئی سہی
ثابت ہوا ہے قتل مرا کس گناہ سے

پیارے عبث ہوئے ہو جہاں دارؔ سے خفا
بے دل نہ ہو تم ایسے دلی خیر خواہ سے

مرزا جواں بخت جہاں دار

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم