MOJ E SUKHAN

جو گزرتا ہے گزر جائے جی

غزل

جو گزرتا ہے گزر جائے جی
آج وہ کر لیں کہ بھر جائے جی

آج کی شب یہیں جینا مرنا
جس کو جانا ہو وہ گھر جائے جی

اس گلی سے نہیں جانا ہم کو
آن رخصت ہو کہ سر جائے جی

وقت نے کر دیا جو کرنا تھا
کوئی مرتا ہے تو مر جائے جی

شاخ گل موج ہوا رقصاں ہیں
پھول بکھرے تو بکھر جائے جی

منظروں کے بھی پرے ہیں منظر
آنکھ جو ہو تو نظر جائے جی

سمت کیا راہ کیا منزل کیسی
چل پڑو آپ جدھر جائے جی

اپنی ہی سوچ پہ چلنا چاہے
اپنی ہی سوچ سے ڈر جائے جی

یہ عجب بات ہے اکثر جاویدؔ
جس سے روکیں وہی کر جائے جی

عبد اللہ جاوید

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم