MOJ E SUKHAN

جو ہوا وہ ذہن میں تھا نہیں جو تھا ذہن میں وہ ہوا نہیں

غزل

جو ہوا وہ ذہن میں تھا نہیں جو تھا ذہن میں وہ ہوا نہیں
جو گمان میں نہ تھا مل گیا جو تھا ہاتھ میں وہ ملا نہیں

وہ جو ہم میں تم میں تھا فاصلہ یہ کمال اس کے سبب ہوا
وہ سنا گیا جو کہا نہیں جو کہا گیا وہ سنا نہیں

وہی کبر ہے مری خاک میں وہی جہل ہے مری ذات میں
جو شرار ہے وہ بجھا نہیں جو چراغ ہے وہ جلا نہیں

وہی تھی ہوا وہی تھی فضا ہمیں بس پروں کو تھا کھولنا
تجھے خوف تھا تو اڑا نہیں مجھے شوق تھا میں رکا نہیں

سم ذات ہو سم کن‌ فکاں سم غیر ہو سم دوستاں
کوئی زہر مجھ سے بچا نہیں کوئی زہر تم نے پیا نہیں

وہ تو ختم کہہ کے گزر گیا میں خیال ہجر سے مر گیا
وہ گیا تو پیچھے مڑا نہیں میں کہیں یہاں سے گیا نہیں

احتشام الحق صدیقی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم