MOJ E SUKHAN

جھوم کے ساغر کون اٹھائے کس کو پڑی میخانے کی

جھوم کے ساغر کون اٹھائے کس کو پڑی میخانے کی
گلشن گلشن یوں پھرتی ہے چاک گریباں پھول کی خوشبو

ساقی کو بھی ہوش نہیں ہے قسمت ہے پیمانے کی
جیسے صبا نے پھیلا دی ہو بات کسی دیوانے کی

دیوانے پن کی گھاٹی میں عقل کا سورج ڈوب چلا
شہر تخیل پر چھائی ہے شام کسی ویرانے کی

سارے سہارے چھوٹ چلے ہیں صبح کا تارا ڈوب چلا
پھر بھی تمنا سوچ رہی ہے بات کسی کے آنے کی

زندہ رہ کر ہی پہنچے گا پیار کا نغمہ گلیوں گلیوں
بات ادھوری رہ جاتی ہے جل بھن کر پروانے کی

بے دردوں کے دور میں ہے جنبشؔ خون تمنا ہونے دو
کوئی نہ کوئی آنسو سرخی دے دے گا افسانے کی

جنبش خیرآبادی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم