MOJ E SUKHAN

جھوٹ پر اس کے بھروسا کر لیا

غزل

جھوٹ پر اس کے بھروسا کر لیا
دھوپ اتنی تھی کہ سایا کر لیا

اب ہماری مشکلیں کچھ کم ہوئیں
دشمنوں نے ایک چہرا کر لیا

ہاتھ کیا آیا سجا کر محفلیں
اور بھی خود کو اکیلا کر لیا

ہارنے کا حوصلہ تو تھا نہیں
جیت میں دشمن کی حصہ کر لیا

منزلوں پر ہم ملیں یہ طے ہوا
واپسی میں ساتھ پکا کر لیا

ساری دنیا سے لڑے جس کے لیے
ایک دن اس سے بھی جھگڑا کر لیا

قرب کا اس کے اٹھا کر فائدہ
ہجر کا ساماں اکٹھا کر لیا

گفتگو سے حل تو کچھ نکلا نہیں
رنجشوں کو اور تازہ کر لیا

مول تھا ہر چیز کا بازار میں
ہم نے تنہائی کا سودا کر لیا

شارق کیفی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم