MOJ E SUKHAN

جھپکی ذرا جو آنکھ جوانی گزر گئی

غزل

جھپکی ذرا جو آنکھ جوانی گزر گئی
بدلی کی چھاؤں تھی ادھر آئی ادھر گئی

مشاطۂ بہار عجب گل کتر گئی
منہ بند جو کلی تھی کھلی اور سنور گئی

پیش جمال یار کرن آفتاب کی
شرما کے چاہتی تھی کہ پلٹے بکھر گئی

مل کے بھبھوت چہرے پہ تاروں کی چھاؤں کا
دھونی رمائے در پہ یہ کس کے سحر گئی

کیا جانے آنکھ مار کے کیا کہہ گئی شفق
پھولوں کی گود موج نسیم آ کے بھر گئی

سینے میں اور تاب دے شعلے کو شوق کے
سجدہ غلط اگر نہ تجلی نکھر گئی

تیری ہی جلوہ زار ہے دنیائے رنگ و بو
اے وائے وہ نظر جو حجابات پر گئی

اب ہاتھ ملتے ہیں کہ دم عرض ماجرا
کہنے کی بات دھیان سے کیسی اتر گئی

کچھ دن کی اور کشمکش زیست ہے اثرؔ
اچھی بری گزرنی تھی جیسی گزر گئی

اثر لکھنؤئ

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم