MOJ E SUKHAN

جہاں میں کون کہہ سکتا ہے تم کو بے وفا تم ہو

غزل

جہاں میں کون کہہ سکتا ہے تم کو بے وفا تم ہو
یہ تھوڑی وضع داری ہے کہ دشمن آشنا تم ہو

تباہی سامنے موجود ہے گر آشنا تم ہو
خدا حافظ ہے اس کشتی کا جس کے ناخدا تم ہو

جفا جو بے مروت بے وفا ناآشنا تم ہو
مگر اتنی برائی پر بھی کتنے خوش نما تم ہو

بھروسا غیر کو ہوگا تمہاری آشنائی کا
تم اپنی ضد پہ آ جاؤ تو کس کے آشنا تم ہو

کوئی دل شاد ہوتا ہے کوئی ناشاد ہوتا ہے
کسی کے مدعی تم ہو کسی کا مدعا تم ہو

ظہیرؔ اس کا نہیں شکوہ نہ کی گر قدر گردوں نے
زمانہ جانتا ہے تم کو جیسے خوش نوا تم ہو

ظہیر دہلوی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم