MOJ E SUKHAN

جہاں والوں سے برتی اس قدر بے گانگی میں نے

غزل

جہاں والوں سے برتی اس قدر بے گانگی میں نے
کہ برہم کر لیا اپنا نظام زندگی میں نے

سکھائے حسن کافر کو سلیقے خود نمائی کے
سنوارا پے بہ پے اپنا مذاق عاشقی میں نے

ہوئے روشن نہ پھر بھی بام و در فکر و تصور کے
ہزاروں بار کی بزم جہاں میں روشنی میں نے

دل ناعاقبت اندیش کی کوتاہ‌‌ بینی کی
کبھی تائید کی میں نے کبھی تردید کی میں نے

ہزاروں بار تہذیب و تمدن کی فضا بدلی
ہزاروں بار اک دنیا نئی آباد کی میں نے

کیا افشا نہ راز غم کسی پر جیتے جی فارغؔ
بڑے صبر و تحمل سے بسر کی زندگی میں نے

لکشمی نارائن فارغ

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم