MOJ E SUKHAN

جہل کو علم کا معیار سمجھ لیتے ہیں

غزل

جہل کو علم کا معیار سمجھ لیتے ہیں
لوگ سائے کو بھی دیوار سمجھ لیتے ہیں

چھیڑ کر جب بھی کسی زلف کو تو آتی ہے
اے صبا ہم تری رفتار سمجھ لیتے ہیں

تو فقط جام کا مفہوم سمجھ اے ساقی
تشنگی کیا ہے یہ مے خوار سمجھ لیتے ہیں

ہم کہ ہیں جنبش ابرو کی زباں سے واقف
تیرے کھنچنے کو بھی تلوار سمجھ لیتے ہیں

اب کسی برہمیٔ زلف کا چرچا نہ کرو
لوگ اپنے کو گرفتار سمجھ لیتے ہیں

جو بھی بازار میں دم بھر کو ٹھہر جاتا ہے
سادہ دل اس کو خریدار سمجھ لیتے ہیں

دل کے اسرار چھپاتے ہیں وہ ہم سے شاعرؔ
ہم کہ رنگ لب و رخسار سمجھ لیتے ہیں

شاعر لکھنوی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم