MOJ E SUKHAN

جیسے کوئی ضدی بچہ کب بہلے بہلانے سے

جیسے کوئی ضدی بچہ کب بہلے بہلانے سے
ایسے ہم دنیا سے چھپ کر دیکھیں خواب سہانے سے

سب کچھ سمجھے لیکن اتنی بات نہیں پہچانے لوگ
مل جاتا ہے چین کسی کو ایک تمہارے آنے سے

ہم تو غم کی ایک اک شدت باہر آنے سے روکیں
اس کی آنکھیں باز نہ آئیں انگارے برسانے سے

لوگو! ہم پردیسی ہو کر جانے کیا کیا کھو بیٹھے
اپنے کوچے بھی لگتے ہیں بیگانے بیگانے سے

دیکھو دوست! تمہارا مقصد شاید ہمدردی ہی ہو
میرا پیکر ٹوٹ گرے گا وہ باتیں دہرانے سے

گھر کا سناٹا تو حمیراؔ ہنگاموں کی نذر ہوا
دل کی ویرانی ویسی کی ویسی ایک زمانے سے

حمیرہ رحمان

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم