جینا عزیز تر ہو تو پھر دار کیا کرے
بازار ہی نہ ہو تو خریدار کیا کرے
سایہ تو مانگتے ہیں مگر سوچتے نہیں
سورج ہو عین سر پہ تو دیوار کیا کرے
تم بادشاہِ وقت تھے کٹوا دئیے تھے ہاتھ
اب قصر گر رہا ہے تو معمار کیا کرے
بے آس بے مراد جیے کوئی کس طرح
اندھیں کنوئیں میں دیدہِ بیدار کیا کرے
جی خوش نہ ہو تو لب پہ تبسم کہاں سے آئے
گردن ہو خم تو طرہِ دستار کیا کرے
پھولوں کے درمیان بھی نفرت ملی اسے
جھنجھلا کے چبھ نہ جائے تو پھر خار کیا کرے
ڈاکٹر اقبال پیرزادہ