MOJ E SUKHAN

جینا عزیز تر ہو تو پھر دار کیا کرے

جینا عزیز تر ہو تو پھر دار کیا کرے
بازار ہی نہ ہو تو خریدار کیا کرے

سایہ تو مانگتے ہیں مگر سوچتے نہیں
سورج ہو عین سر پہ تو دیوار کیا کرے

تم بادشاہِ وقت تھے کٹوا دئیے تھے ہاتھ
اب قصر گر رہا ہے تو معمار کیا کرے

بے آس بے مراد جیے کوئی کس طرح
اندھیں کنوئیں میں دیدہِ بیدار کیا کرے

جی خوش نہ ہو تو لب پہ تبسم کہاں سے آئے
گردن ہو خم تو طرہِ دستار کیا کرے

پھولوں کے درمیان بھی نفرت ملی اسے
جھنجھلا کے چبھ نہ جائے تو پھر خار کیا کرے

ڈاکٹر اقبال پیرزادہ

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم