MOJ E SUKHAN

جینا ہے سب کے ساتھ کہ انسان میں بھی ہوں

غزل

جینا ہے سب کے ساتھ کہ انسان میں بھی ہوں
چہرے بدل بدل کے پریشان میں بھی ہوں

جھونکا ہوا کا چپکے سے کانوں میں کہہ گیا
اک کانپتے دیے کا نگہبان میں بھی ہوں

انکار اب تجھے بھی ہے میری شناخت سے
لیکن نہ بھول یہ تری پہچان میں بھی ہوں

آنکھوں میں منظروں کو جب آباد کر لیا
دل نے کیا یہ طنز کہ ویران میں بھی ہوں

اپنے سوا کسی سے نہیں دشمنی قمرؔ
ہر لمحہ خود سے دست و گریبان میں بھی ہوں

قمر اقبال

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم