MOJ E SUKHAN

جینے والا یہ سمجھتا نہیں سودائی ہے

غزل

جینے والا یہ سمجھتا نہیں سودائی ہے
زندگی موت کو بھی ساتھ لگا لائی ہے

یہ بھی مشتاق ادا وہ بھی تمنائی ہے
کھنچ کے دنیا ترے کوچے میں چلی آئی ہے

کھل گئے نزع میں اسرار طلسم ہستی
زیست کہتے ہیں جسے موت کی انگڑائی ہے

کہہ گئے اہل چمن یہ ترے دیوانوں سے
ہوش میں آؤ زمانے میں بہار آئی ہے

میں کسی روز دکھاؤں دل صد چاک ادا
تجھ کو معلوم تو ہو کیا تری انگڑائی ہے

ڈھونڈھتی کیوں نہ رہے اس کو ابد تک دنیا
جس نے چھپنے کی ازل ہی میں قسم کھائی ہے

پھوٹ کر پاؤں کے چھالے مرے لائے یہ رنگ
باغ تو باغ ہے صحرا میں بہار آئی ہے

جلوۂ روز ازل نے مجھے بے چین کیا
پہلی دنیا میں یہ پہلی تری انگڑائی ہے

جس کی صحت کے لئے آپ دعائیں مانگیں
ایسے بیمار کو بھی موت کہیں آئی ہے

تیغ قاتل کو پس قتل ندامت ہوگی
دم سے بسملؔ ہی کے یہ معرکہ آرائی ہے

بسمل الہ آبادی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم