MOJ E SUKHAN

جیون مجھ سے میں جیون سے شرماتا ہوں

غزل

جیون مجھ سے میں جیون سے شرماتا ہوں
مجھ سے آگے جانے والو میں آتا ہوں

جن کی یادوں سے روشن ہیں میری آنکھیں
دل کہتا ہے ان کو بھی میں یاد آتا ہوں

سر سے سانسوں کا ناتا ہے توڑوں کیسے
تم جلتے ہو کیوں جیتا ہوں کیوں گاتا ہوں

تم اپنے دامن میں ستارے بیٹھ کے ٹانکو
اور میں نئے برن لفظوں کو پہناتا ہوں

جن خوابوں کو دیکھ کے میں نے جینا سیکھا
ان کے آگے ہر دولت کو ٹھکراتا ہوں

زہر اگلتے ہیں جب مل کر دنیا والے
میٹھے بولوں کی وادی میں کھو جاتا ہوں

جالبؔ میرے شعر سمجھ میں آ جاتے ہیں
اسی لیے کم رتبہ شاعر کہلاتا ہوں

حبیب جالب

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم