MOJ E SUKHAN

جی چاہتا ہے کس نے کہا مت خریدیئے

جی چاہتا ہے کس نے کہا مت خریدیئے
دولت سے حسن حسن سے دولت خریدیئے

کچھ لوگ جی رہے ہیں شرافت کو بیچ کر
تھوڑی بہت انھیں سے شرافت خریدیئے

پھیلا ہے کاروبارِ مروت سو آپ بھی
سب کی طرح کسی کی ضرورت خریدیئے

اپنی پسند اپنے مقدر کی بات ہے
صبحِ ازل سے شامِ قیامت خریدیئے

گہرائیوں کی فکر میں کیوں مبتلا ہیں آپ
لکھیئے غزل عوام سے شہرت خریدیئے

کہتے ہیں جس کو شعر دعا کا مقام ہے
رسوائیاں کمایئے عبرت خریدیئے

آنکھیں رہی تو رنگ بہت روشنی بہت
اب ہو سکے تو پردۂ غفلت خریدیئے

کیوں آپ شرمسار ہیں اپنے وجود سے
سچ بولیئے جہاں کی عداوت خریدیئے

دنیا کے رنگ جھلیئے کمرے میں بیٹھ کر
کھڑکی کے پاس جایئے حسرت خریدیئے

عمرِ عزیز وقت نہیں مول تول کا
بازار اٹھ چکا اجی حضرت خریدیئے

بے رنگ ہے حکایتِ خونِ جگر خزاںؔ
خونِ جگر سے رنگ کی قیمت خریدیئے​

محبوب خزاںؔ​

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم