MOJ E SUKHAN

حادثہ روز نیا واقعہ تھا روز وہی

حادثہ روز نیا واقعہ تھا روز وہی
زخم ھر لمحہ نئے درد ملا روز وہی

وھی اک وصل کیخواھش کیلیے ہجر کی شام
وحشت جاں کے لیے حرف دعا روز وہی

وھی اک شخص کی خاطر نئی بست کا پتہ
شکلیں ھر روز نئی راہ وفا روز وہی

ھر نئے روز نئی طرح سے زندہ رہنا
وحشتیں روز وھی درد ودوا روز وہی

وھی ھر شام سمندر کے کنارے تنہا
اور سناٹے میں پانی کی صدا روز وہی

وھی دیوانگی دل کے لیے ایک سفر
قافلہ روز نیا آپلہ پا روز وہی

روز جلنے کے لیے بجھتا رھا ایک دیا
اور ایک سمت سے آتی تھی ھوا روز وہی

آنکھ سے خواب تلک ھے وھی غم کا رستہ
کوششیں روز وھی قافلہ تھا روز وہی

دشت ھے آگ کا ور ھے وھی رستہ عادل
باغ میں یاد کے ھے پھول نیا روز وہی

تاجدار عادل

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم