MOJ E SUKHAN

حال ایسا نہیں کہ تم سے کہیں

حال ایسا نہیں کہ تم سے کہیں
ایک جھگڑا نہیں کہ تم سے کہیں

زیر لب آہ بھی محال ہوئی
درد اتنا نہیں کہ تم سے کہیں

تم زلیخا نہیں کہ ہم سے کہو
ہم مسیحا نہیں کہ تم سے کہیں

سب سمجھتے ہیں اور سب چپ ہیں
کوئی کہتا نہیں کہ تم سے کہیں

کس سے پوچھیں کہ وصل میں کیا ہے
ہجر میں کیا نہیں کہ تم سے کہیں

اب خزاںؔ یہ بھی کہہ نہیں سکتے
تم نے پوچھا نہیں کہ تم سے کہیں 

محبوب خزاں

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم