MOJ E SUKHAN

[wpdts-date-time]

حرف اور خواب – شاعر کے الہامی جواہر تحریر منظر حسین اختر

حرف اور خواب – شاعر کے الہامی جواہر

تحریر منظر حسین اختر

شاعر بننے کا عمل محض الفاظ کو قرینے سے جوڑنے یا مصرعے کو وزن میں لانے کا نام نہیں بلکہ یہ ایک روحانی و فکری سفر ہے — ایک الہامی جستجو جو شعور کی تہوں سے گزر کر لاشعور کی گہرائیوں میں جا پہنچتی ہے۔ یہ ایک ایسا لطیف اور نازک فن ہے جو تخیل، جذباتی حساسیت، گہری فہم، تاریخی آگہی، سیاسی و مذہبی شعور، اور انسانی تجربے کے تنوع سے نمو پاتا ہے۔ ٹی ایس ایلیٹ نے اس کیفیت کو نہایت گہری بصیرت سے بیان کیا ہے:
> "Genuine poetry can communicate before it is understood.”
"اصلی شاعری وہ ہے جو سمجھے جانے سے پہلے اثر کر جائے۔”
یعنی سچی شاعری کی تاثیر الفاظ کے ظاہری مفہوم سے آگے بڑھ کر قاری کے شعور میں داخل ہو جاتی ہے — ایک ایسی زبان جو جذبات سے ہمکلام ہوتی ہے۔
مشاہدہ، جو کہ شاعر کی آنکھوں میں ایک مستقل جاگتی ہوئی آنچ کی مانند ہوتا ہے، شاعری کی اصل بنیاد ہے۔ شاعر اپنے گرد و پیش کے مناظر، چہروں، لمسوں اور کیفیات کو ایسے محسوس کرتا ہے جیسے وہ اُن میں تحلیل ہو رہا ہو۔ سیموئل ٹیلر کولرج نے شاعری کی تعریف یوں کی:
> "Poetry: the best words in the best order.”
"شاعری بہترین الفاظ کو بہترین ترتیب میں برتنے کا نام ہے۔”
یہ ترتیب فقط لسانی حسن تک محدود نہیں بلکہ معنوی گہرائی اور جذباتی نرمی کو بھی اپنے اندر سموئے ہوئے ہوتی ہے۔
فطرت، جو ازل سے شاعر کی ہمراز اور رہنما رہی ہے، اسے وہ جمالیاتی زاویہ عطا کرتی ہے جس سے تخیل میں پرواز آتی ہے۔ جان کیٹس نے کہا:
> "A thing of beauty is a joy forever.”
"حسن کی ایک چیز ہمیشہ کے لیے مسرت کا باعث بنتی ہے۔”
شاعر جب فطرت کی آغوش میں اپنے جذبات کی پرورش کرتا ہے تو اُس کی شاعری وقت کی قید سے آزاد ہو کر ابدی جمال کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔
ایملی ڈکنسن کہتی ہیں:
> "If I read a book and it makes my whole body so cold no fire can warm me, I know that is poetry.”
"اگر کوئی تحریر میرے وجود کو اس قدر سرد کر دے کہ آگ بھی گرما نہ سکے، تو جان لیتی ہوں کہ وہ شاعری ہے۔”
یہ اس بات کا اقرار ہے کہ شاعری صرف ذہن نہیں چھوتی، بلکہ روح کی گہرائیوں کو ہلا دیتی ہے۔ یہ وہ ارتعاش ہے جو بے آواز ہوتے ہوئے بھی زندگی کی تہہ میں گونج بن کر رہتا ہے۔
شاعر کی سب سے بڑی طاقت اُس کی زبان پر گرفت ہے۔ ایلیٹ اس بات پر زور دیتا ہے کہ:
> "The poet must become more and more comprehensive, more allusive, more indirect.”
"شاعر کو ہر لمحہ زیادہ ہمہ گیر، اشاروں میں بات کرنے والا، اور غیر مستقیم ہونا چاہیے۔”
یہی غیر مستقیم انداز، استعاراتی زبان، اور اشارتی بیان ہی شاعری کی جمالیات میں جادو پیدا کرتے ہیں۔
شاعر کا وجود محض ذاتی مشاہدات کا حاصل نہیں بلکہ اُس کے اردگرد کا تہذیبی، فکری اور جمالیاتی ماحول اُسے تراشتا ہے۔ اُس کے فکری شعور میں خاندان، تعلیم، زبان، اور مطالعے کا گہرا اثر شامل ہوتا ہے، جو وقت کے ساتھ اُس کے اندر ایک منفرد تخلیقی جہت پیدا کرتا ہے۔
روبرٹ فراسٹ کے ان الفاظ میں شاعر کے انفرادی انتخاب کی اہمیت سمٹ آئی ہے:
> "I took the one less traveled by, and that has made all the difference.”
"میں اُس راہ پر چلا جو کم لوگوں نے چنی، اور یہی فرق کا باعث بنی۔”
یہی راہِ انفرادیت شاعر کو ہجوم میں الگ پہچان دیتی ہے۔
ایلیٹ کا ایک اور قول ہے:
> "Immature poets imitate; mature poets steal.”
"ناپختہ شاعر نقل کرتے ہیں، جب کہ پختہ شاعر اثرات کو جذب کر کے اپنی پہچان بناتے ہیں۔”
یہاں "چوری” محض سرقہ نہیں بلکہ شعری روایت سے انسپائریشن حاصل کر کے اُسے اپنی باطنی شناخت میں جذب کرنے کا نام ہے۔
رومی کہتا ہے:
> "Don’t be satisfied with stories, how things have gone with others. Unfold your own myth.”
"دوسروں کی کہانیوں پر قناعت نہ کرو، اپنی کہانی خود تراشو۔”
یہ شاعر کے اُس داخلی سفر کا اعلان ہے جو اپنے وجود کی گہرائی سے سچائیوں کو نکال کر فن کے قالب میں ڈھالتا ہے۔
ہمارے عہد کے ممتاز شاعر و نقاد، امیر حسین جعفری، اس تخلیقی عمل کو یوں بیان کرتے ہیں:
> "شاعر کی مثال نور باف جیسی ہے، تخلیق کے نازک تار پر سفر کرتا ہے۔ ہر ہجے کے ساتھ وہ جذبات کے کینوس پر ایک ضربِ قلم چلاتا ہے۔ اپنے داخلی بھنور میں وہ شخصی تجربات اور آفاقی سچائیوں کو گھولتا ہے، اور پھر زبان کے کیمیا سے اُنہیں شعری شکل عطا کرتا ہے۔ شاعر وجود کی کڑھائی میں زندگی کی تصویر بُنتا ہے۔”
یہی وہ الوہی تخلیقی لمحہ ہے جہاں شاعر فن کو عبادت بنا دیتا ہے۔
مریم اولیور نے شاعری کی ضرورت یوں بیان کی ہے:
> "Poetry is a life-cherishing force… something as necessary as bread in the pockets of the hungry.”
"شاعری زندگی کو سنوارنے والی قوت ہے… جیسے بھوکے کے لیے روٹی۔”
شاعری محض زینتِ بزم نہیں بلکہ روح کی بھوک مٹانے والی غذا ہے۔
فرائڈ کے مطابق:
> "The interpretation of dreams is the royal road to a knowledge of the unconscious.”
"خوابوں کی تعبیر لاشعور کی معرفت کا شاہی راستہ ہے۔”
شاعر اکثر اپنے خوابوں، یادوں اور دل کی اتھاہ گہرائیوں سے تخلیقی مواد کشید کرتا ہے۔
سیلویا پلاتھ کی یہ سطر:
> "I talk to God, but the sky is empty.”
"میں خدا سے بات کرتی ہوں، لیکن آسمان خالی ہے۔”
شاعری میں اُس کی درونی تنہائی، درد اور خلا کی گونج ہے — اور یہی خلا اُس کی شاعری کا اثاثہ بن گئی۔
روبرٹ فراسٹ نے کہا:
> "Poetry is when an emotion has found its thought and the thought has found words.”
"جب جذبات کو سوچ مل جائے، اور سوچ کو الفاظ، تب شاعری جنم لیتی ہے۔”
یہی جذبات کی فکری صورت گری شاعری کو فن کے درجے پر فائز کرتی ہے۔
ڈبلیو ایچ آڈن کہتا ہے:
> "A poet is, before anything else, a person who is passionately in love with language.”
"شاعر سب سے پہلے ایک ایسا شخص ہے جو زبان سے شدید محبت کرتا ہے۔”
یہی محبت زبان کو شاعر کے ہاتھ میں ایک جادوگر کی چھڑی بنا دیتی ہے۔
ادبی محفلیں، تنقیدی مکالمے، اور فکری اشتراک شاعر کی تخلیق میں نکھار پیدا کرتے ہیں۔ جان کیٹس نے خوب کہا:
> "A poet is the most un poetical of anything in existence…”
"شاعر اپنی ذات میں سب سے کم شاعرانہ ہوتا ہے…”
یعنی وہ اپنی انانیت سے نکل کر دوسروں کے درد، خوشی، اور تجربے کا عکاس بن جاتا ہے۔
رائنر ماریا رِلکے کا قول:
> "Go into yourself and see how deep the place is from which your life flows.”
"اپنے اندر جھانکو اور دیکھو کہ زندگی کا بہاؤ کس گہرائی سے نکلتا ہے۔”
یہ وہ مقام ہے جہاں سے شاعری کا چشمہ پھوٹتا ہے۔
نتیجتاً، شاعر بننے کا عمل محض الفاظ کا جوڑ توڑ نہیں بلکہ ایک روحانی تربیت، فکری مشقت، جمالیاتی مشاہدہ، اور تخلیقی خود کُشی کا عمل ہے — ایک ایسا سلوک جس میں تخیل، احساس، مشاہدہ اور زبان کے رنگ مل کر ایک نئی دنیا تخلیق کرتے ہیں۔
مایا اینجلو کہتی ہیں:
> "We write for the same reason that we walk, talk, climb mountains… because we can.”
"ہم لکھتے ہیں اُسی وجہ سے جس وجہ سے ہم چلتے، بولتے، اور پہاڑ چڑھتے ہیں… کیونکہ ہم یہ کر سکتے ہیں۔”
جناب امیر حسین جعفری صاحب کے الفاظ میں شاعری وہ زندگی بخش انچ ہے جو سچائی کو روشنی دیتی ہے وہ ائینہ ہے جس میں روح اپنی اصل صورت دیکھتی ہے اور یہ وہ نغمہ ہے جو خامشی کی گہرائیوں میں ارتعاش پیدا کرتا ہے
شاعر یہی فطری قوت اپنے فن میں استعمال کرتا ہے، جو اُسے کائنات کی ترجمانی کا وسیلہ بناتی ہے۔
اس طویل اور پرکیف سفر کا حاصل یہ ہے کہ شاعر، اپنی ذات کے گوشوں اور معاشرتی شعور کے آئینے کو نظم میں ڈھال کر ایک ایسی تخلیق پیش کرتا ہے جو نہ صرف فکری اور روحانی سطح پر اثرانداز ہوتی ہے بلکہ زمان و مکان کی قید سے آزاد ہو کر آنے والی نسلوں کے لیے بھی روشنی کا مینار بن جاتی ہے۔
جیسا کہ جناب اختر حسین جعفری صاحب کی نظم "آئینہ خانہ” میں کہا گیا ہے: میں سمجھتا ہوں کہ یہ اقتباس شاعر اور شاعری کے منصب کو بیان کرتا ہے
> اٹھائیں فرشِ سماعت سے لفظ لفظ کی خشت
صدا کے خشک سمندر کو چھان کر دیکھیں
کہاں ہے جوہرِ صورت، کہاں زرِ معنی
جگائیں حرف کو خوابِ سفر سے اور پوچھیں
کہاں وہ قصر ہے جس کے کھلے دریچے سے
دکھائی دیتا ہے مفہوم کا نیا چہرہ
اڑائیں فکر کے باغوں سے تتلیوں سے پرے
پروں نے جن کے چھپا لی ہے اصل اندیشہ
وہ روشنائی، وہ خوشبوئے غم کشید کریں
مشامِ جاں نے جو قرطاس پر نہیں دیکھی
منظر حسین اختر
Facebook
Twitter
WhatsApp

ادب سے متعلق نئے مضامین