MOJ E SUKHAN

حسن کا ایک آہ نے چہرہ نڈھال کر دیا

حسن کا ایک آہ نے چہرہ نڈھال کر دیا
آج تو اے دل حزیں تو نے کمال کر دیا

سہتا رہا جفائے دوست کہتا رہا ادائے دوست
میرے خلوص نے مرا جینا محال کر دیا

مے کدہ میں ہے قحط مے یا کوئی اور بات ہے
پیر مغاں نے کیوں مجھے جام سنبھال کر دیا

جتنے چمن پرست تھے سایۂ گل میں مست تھے
اپنا عروج گلستاں نذر زوال کر دیا

خود مرا سوز جاں گداز چھیڑ سکا نہ دل کا ساز
آپ کی اک نگاہ نے صاحب حال کر دیا

بزم میں سارے اہل ہوش ان کے ستم پہ تھے خموش
ایک جنوں پرست نے اٹھ کے سوال کر دیا

لطف فراق یار نے لذت انتظار نے
دور دل و نگاہ سے شوق وصال کر دیا

سن کے بیان میکدہ دیکھ کے شان میکدہ
شیخ حرم نے بھی فناؔ مے کو حلال کر دیا

فنا نظامی کانپوری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم