MOJ E SUKHAN

حسین اور اس پہ خودبیں وہ ستمگر یوں بھی ہے یوں بھی

غزل

حسین اور اس پہ خودبیں وہ ستمگر یوں بھی ہے یوں بھی
نظارہ قبضۂ قدرت سے باہر یوں بھی ہے یوں بھی

جو یہ بسمل حیا سے ہے تو وہ مجروح دیکھے سے
نگاہ ناز اس قاتل کی خنجر یوں بھی ہے یوں بھی

جبیں اس در پہ ہے وہ در ہے اونچا عرش اعظم سے
بلند اوج ثریا سے مقدر یوں بھی ہے یوں بھی

ادھر وہ مجھ سے برہم ہیں ادھر مایوس نظارہ
کہ میری عمر کا لبریز ساغر یوں بھی ہے یوں بھی

عقیدت تجھ سے بھی ہے بیعت دست سبو بھی ہے
جو ساقی رند ہے حق دار کوثر یوں بھی ہے یوں بھی

مری منزل کا پہلا نام دنیا دوسرا دیں ہے
کہ راہ عشق میرے حق میں بہتر یوں بھی ہے یوں بھی

میں خواہر زادۂ حیدر بھی ہوں شاگرد حیدر بھی
مرا ملک سخن پہ قبضہ قیصرؔ یوں بھی ہے یوں بھی

قیصر حیدری دہلوی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم