MOJ E SUKHAN

حشر ظلمات سے دل ڈرتا ہے

حشر ظلمات سے دل ڈرتا ہے
اس گھنی رات سے دل ڈرتا ہے

برف احساس نہ گل جائے کہیں
سیل اوقات سے دل ڈرتا ہے

تو بھی اے دوست نہ ہو جائے جدا
اب ہر اک بات سے دل ڈرتا ہے

یہ کڑی دھوپ دہکتا سورج
سائے کے سات سے دل ڈرتا ہے

ہائے وہ رینگتی تنہائی جب
اپنی ہی ذات سے دل ڈرتا ہے

کیسے دیکھیں گے وہ اجڑی آنکھیں
اب ملاقات سے دل ڈرتا ہے

زخم ہو جائیں گے باغوں کے ہرے
شامؔ برسات سے دل ڈرتا ہے

محمود شام

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم