MOJ E SUKHAN

حنوط سلسلے رکھے ہوئے خیالوں کے

حنوط سلسلے رکھے ہوئے خیالوں کے
عجائبات ہیں دل میں پری جمالوں کے

کہیں خموش کہیں گونجتے اندھیرے ہیں
بجھے چراغ ہیں ماتم کدے اجالوں کے

کہیں پہ آئنے حیرت کے انتظار میں ہیں
کہیں پہ سنگ بھی رکھے ہیں کچھ سوالوں کے

لپٹ کے روتی ہوئی چاندنی چٹانوں سے
کہ جن میں رکھے ہوئے خواب ہیں وہ جوالوں کے

عجب ہیں دھند کے منظر شجر اداس اداس
کہیں پہ موڑ ہیں ملنے بچھڑنے والوں کے

جاوید احمد

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم