MOJ E SUKHAN

حیات رواں

بظاہر کہیں کوئی ہلچل نہیں ہے
حیات رواں اپنے مرکز سے چمٹی ہوئی ہے
بہت عام بے کار الجھے دنوں کی
ملائم سی گٹھری میں رکھی ہوئی
ایک بے نام سی دوپہر ہے
ہوا چل رہی ہے
نہ جانے کہاں
گہرے بے چین بادل کے ٹکڑے
اڑے جا رہے ہیں
پریشان سڑکوں پہ بہتے ہوئے زرد پتے
فضا میں بکھرتا ہوا کچھ غبار مسلسل
ذرا پل دو پل کو
بہت دور پتوں پہ ہنستا ہوا
تیز سورج
مگر پھر چمکتی ہوئی اک کرن پر
جھپٹتے ہوئے گدلے بادل
کھلے آسماں پر ٹھہرتے نہیں ہیں
ہوا چلتی رہتی ہے رکتی نہیں ہے
درختوں پہ شاخیں
ادھر سے ادھر ڈولتی ہیں
ادھر سے ادھر
میری چشم تصور میں اڑتے ہوئے چند ٹکڑے
لپکتے جھپکتے خیالات کے میلے بادل
کہیں سطح دل پر ٹھہرتے نہیں ہیں
بظاہر جہاں کوئی ہلچل نہیں ہے
مگر یہ غبار مسلسل اڑائے چلی جا رہی ہے
ہوا چلتی رہتی ہے رکتی نہیں ہے
حیات رواں اپنے مرکز سے چمٹی ہوئی ہے
مگر بے نام سی دوپہر کے
سکوت نہاں میں
عجب بے کلی ہے

گلناز کوثر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم