MOJ E SUKHAN

حیرت زدہ میں ان کے مقابل میں رہ گیا

حیرت زدہ میں ان کے مقابل میں رہ گیا
جو دل کا مدعا تھا مرے دل میں رہ گیا

خنجر کا وار کرتے ہی قاتل رواں ہوا
ارمان دید دیدۂ بسمل میں رہ گیا

جتنی صفا تھی سب رخ جاناں میں آ گئی
جو داغ رہ گیا مہ کامل میں رہ گیا

اے مہربان دشت محبت چلے چلو
اپنا تو پائے شوق سلاسل میں رہ گیا

وحشت فزا بہت تھی ہوا دشت قیس کی
پردہ کسی کا پردۂ محمل میں رہ گیا

محرومؔ دل کے ہاتھ سے جاں تھی عذاب میں
اچھا ہوا کہ یار کی محفل میں رہ گیا

تلوک چند محروم

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم