MOJ E SUKHAN

خامشی میں کبھی صداؤں میں

غزل

خامشی میں کبھی صداؤں میں
کھو گئی اجنبی فضاؤں میں

نہ سفر ہے نہ ہے سکون مجھے
کیسی گردش ہے میرے پاؤں میں

چیختی ہے یہ تیرگی شب کی
چاند خاموش ہے گھٹاؤں میں

کیا ہے جو خاک پر نہیں موجود
ڈھونڈتے ہیں کسے خلاؤں میں

سانس لیتے ہوئے بھی ڈرتی ہوں
کس قدر زہر ہے ہواؤں میں

اے غم ہجر بخشنے والے
یاد رکھنا ہمیں دعاؤں میں

دل پریشاں ہے اس طرح تاراؔ
ہو گئی مرگ جیسے گاؤں میں

طاہرہ جبین تارا

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم