MOJ E SUKHAN

خاموش زمزمے ہیں مرا حرف زار چپ

خاموش زمزمے ہیں مرا حرف زار چپ
ہر اختیار چپ ہے ہر اک اعتبار چپ

باد سموم درپئے آزار دیکھ کر
سکتے میں بے قرار ہے باد بہار چپ

منظر نہیں ہیں بولتے صحرا اداس ہے
پتھرا گئی ہے آنکھ دل داغ دار چپ

جو کچھ بھی ہو رہا ہے یہ مقسوم تو نہیں
بس تجھ کو کھا گئی ہے تری سوگوار چپ

ہر ایک کو ہوں گوش بر آواز دیکھتا
اوڑھے ہوئے ہوں جب سے میں اک با وقار چپ

حرف دعا نہ دست طلب در پہ آن کر
لب پر فقط ہے رقص میں اک دل فگار چپ

ذوالفقار نقوی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم