MOJ E SUKHAN

خبر تو دور امین خبر نہیں آئے

خبر تو دور امین خبر نہیں آئے
بہت دنوں سے وہ لشکر ادھر نہیں آئے

یہ بات یاد رکھیں گے تلاشنے والے
جو اس سفر پہ گئے لوٹ کر نہیں آئے

طلسم اونگھتی راتوں کا توڑنے والے
وہ مخبران سحر پھر نظر نہیں آئے

ضرور تجھ سے بھی اک روز اوب جائیں گے
خدا کرے کہ تری رہ گزر نہیں آئے

سوال کرتی کئی آنکھیں منتظر ہیں یہاں
جواب آج بھی ہم سوچ کر نہیں آئے

اداس سونی سی چھت اور دو بجھی آنکھیں
کئی دنوں سے پھر آشفتہؔ گھر نہیں آئے

آشفتہ چنگیزی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم