MOJ E SUKHAN

خرد اے بے خبر کچھ بھی نہیں ہے

خرد اے بے خبر کچھ بھی نہیں ہے
نہ ہو سودا تو سر کچھ بھی نہیں ہے

چمک ساری درون شاخ گل ہے
نہال و شاخ پر کچھ بھی نہیں ہے

خلا میں بال و پر مائل بہ پرواز
زمیں پر گھر شجر کچھ بھی نہیں ہے

حقیقت بھی ہے پابند تغیر
جہاں میں معتبر کچھ بھی نہیں ہے

سہم جاتا ہوں لطف دوستاں سے
کہ دشمن ہو تو ڈر کچھ بھی نہیں ہے

یہ سارا فاصلہ دل کا ہے ورنہ
میان دشت و در کچھ بھی نہیں ہے

سید امین اشرف

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم