خرد کا خرقۂ اعجاز گیان سے مشروط
یقیں کا سیلِ رواں ہے گْمان سے مشروط
کسی کے شور مچانے سے کچھ نہیں ہوگا
فروغِ حسنِ سماعت ہے دھیان سے مشروط
نہ جانے تیر نشانے پہ کیوں نہیں لگتے
ہدف کی حدّ رسائ کمان سے مشروط
یہ مشتِ خاک ستاروں کو اْڑ کے چھو آئی
نہیں تھا وقت زمان و مکان سے مشروط
قدم پھسلتے گئے سرنگوں چٹانوں پر
بلندیوں کا سفر ہے ڈھلان سے مشروط
ہر اک قدم پہ مناظر ہوئے سراب زدہ
سفر ہے دھوپ میں اک سائبان سے مشروط
کبھی تو کام میں آجائے سرکشی کا ہْنر
ہوائیں ہوتی رہیں بادبان سے مشروط
کوئ بھی موت کی سرحد سے کب پلٹتا ہے
ہر ایک سرّ نہاں کشتِ جان سے مشروط
نہ جانے زورِ تکلّْم نے کتنے جھوٹ گڑھے
یقین, نور کے زورِ بیان سے مشروط
نورِ شمع نور