MOJ E SUKHAN

خزانے بھی ملیں اس کے عوض تو ہم نہ بیچیں گے

غزل

خزانے بھی ملیں اس کے عوض تو ہم نہ بیچیں گے
ہمارا غم ہے مظلوموں کا غم یہ غم نہ بیچیں گے

کہستانوں سے پتھر کاٹ کر لائیں گے ہم لیکن
کسی ظالم کے ہاتھوں زخم کا مرہم نہ بیچیں گے

بلا سے دھول پھانکیں یا پرانے چیتھڑے پہنیں
مگر یارو متاع علم و دانش ہم نہ بیچیں گے

کسی دربار میں جا کر ادب اور فن کی صورت میں
تمہاری عنبریں زلفوں کے پیچ و خم نہ بیچیں گے

ہمارا انقلاب آئے گا جب تو کام آئے گا
ابھی اپنی تمنا کا اجالا ہم نہ بیچیں گے

گلستاں بیچ کر کھانا ہوس کاروں کا شیوہ ہے
چمن والو پپیہوں کا ترنم ہم نہ بیچیں گے

بھری محفل میں دوراںؔ آج ہم پھر عہد کرتے ہیں
جو ہے انسانیت کی آس وہ پرچم نہ بیچیں گے

اویس احمد دوراں

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم