MOJ E SUKHAN

خزاں کے جانے سے ہو یا بہار آنے سے

خزاں کے جانے سے ہو یا بہار آنے سے
چمن میں پھول کھلیں گے کسی بہانے سے

وہ دیکھتا رہے مڑ مڑ کے سوئے در کب تک
جو کروٹیں بھی بدلتا نہیں ٹھکانے سے

اگل نہ سنگ ملامت خدا سے ڈر ناصح
ملے گا کیا تجھے شیشوں کے ٹوٹ جانے سے

زمانہ آپ کا ہے اور آپ اس کے ہیں
لڑائی مول لیں ہم مفت کیوں زمانے سے

خدا کا شکر سویرے ہی آ گیا قاصد
میں بچ گیا شب فرقت کے ناز اٹھانے سے

میں کچھ کہوں نہ کہوں کہہ رہی ہے خاک جبیں
کہ اس جبیں کو ہے نسبت اک آستانے سے

قیامت آئے قیامت سے میں نہیں ڈرتا
اٹھا تو دے کوئی پردہ کسی بہانے سے

خبر بھی ہے تجھے آئینہ دیکھنے والے
کہاں گیا ہے دوپٹہ سرک کے شانے سے

یہ زندگی بھی کوئی زندگی ہوئی بسملؔ
نہ رو سکے نہ کبھی ہنس سکے ٹھکانے سے

بسمل عظیم آبادی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم