MOJ E SUKHAN

خضر جس سے بنے اس آب بقا سے ڈریے

غزل

خضر جس سے بنے اس آب بقا سے ڈریے
لمبی عمروں سے بزرگوں کی دعا سے ڈریے

ہم قدم بن گئے اس کے تو ٹھکانہ ہی نہیں
آتی جاتی ہوئی بے سمت ہوا سے ڈریے

نیت جرم ہی ہے جرم کا آغاز یہاں
جو نہ کی ہو اسی ناکردہ خطا سے ڈریے

سانحہ رونما ہو جائے گا شق ہونے پر
تیشہ کو روکئے پتھر کی انا سے ڈریے

پتا پتا یہاں بیٹھا ہے سمیٹے خود کو
گنگناتی ہوئی اس باد صبا سے ڈریے

اور شے ہیں تو کوئی ڈرنے کی حاجت ہی نہیں
آپ بندے ہیں خدا کے تو خدا سے ڈریے

رحمتیں زحمتیں بن جاتی ہیں اکثر اے آہؔ
ہو نہ یہ سیل بلا کالی گھٹا سے ڈریے

آہ سنبھلی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم