MOJ E SUKHAN

خط ان کو بھیجا ہے دل کے سجھاو پر ہم نے

غزل

خط ان کو بھیجا ہے دل کے سجھاو پر ہم نے
بھروسہ کر لیا کاغذ کی ناؤ پر ہم نے

یہ دل کا زخم تو بھرنے میں ہی نہیں آتا
رکھا ہے پیار کا مرہم بھی گھاؤ پر ہم نے

یہ ایک سچ ہے کہ تم کو بھلا نہیں پائے
عمل کیا تھا تمہارے سجھاو پر ہم نے

سفینہ ڈوبنا لازم تھا اپنی ہستی کا
کہ خواہشوں کو بھی لادا تھا ناؤ پر ہم نے

فقط حیات کی تلخی نہیں ہے شعروں میں
لکھا ہے اپنے بھی ذہنی تناؤ پر ہم نے

قمار خانۂ عالم سے تجربہ جو ملا
لگا دیا ہے وہ حاصل بھی داؤ پر ہم نے

حیات دب گئی آرائشوں کے ملبے میں
گنوا دی عمر اسی رکھ رکھاؤ پر ہم نے

اوم کرشن راحت

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم